The Answer to Kindness

The Answer to Kindness: A Tale of an Ant 🐜
Once upon a time, there was a diligent and honest ant. Always busy with one task or another, sometimes repairing its mound, other times carrying a grain of rice to its colony. It considered idleness a sin and approached every task with great devotion. Time was of great value to it. It refrained from engaging in purposeless conversations, knowing that wise beings don’t talk too much. If it encountered a fellow ant of acquaintance on its path, it would greet them from afar and continue on its way.

The Compassionate Soul 🌟
In addition to being hardworking, this ant was also the owner of a compassionate heart. If it came across a fellow creature in distress, it would set aside its work to offer assistance. It respected its elders and treated the younger ones with tenderness. Near its mound, there was a small pond of murky water. Wicked and dirty children spent hours bathing in it. The filthy water was home to numerous germs, sticking to their skin and causing infections. Apart from these children, many buffaloes also sat in the water all day long.

A Troubled Ant 🐜
The ant was troubled. Buffaloes roamed around incessantly, posing a threat that it or its offspring might get crushed under their hooves. Now it mostly stayed inside the colony. Even if it had to go out for something important, it would sternly instruct its wife and children not to venture outside.

One day, the ant, exhausted, lay down for a while after having its midday meal. The poor creature had barely closed its eyes when it was suddenly disturbed. To its surprise, it saw its wife, another ant, standing nearby. She seemed quite agitated. The ant was quite taken aback. It inquired, “What’s the matter? Why are you here? And where is this water coming from?” The ant asked.

“I have no idea where it’s coming from. Please go outside and see how you can stop it. Otherwise, all our hard-earned grains will go to waste,” replied the ant.

The Quest to Save 🛡️
The ant rushed outside and saw a buffalo, dangerously close to its mound, repeatedly swaying its tail, splashing water. Droplets were flying into the ant’s mound. The ant was distressed. “This way, our food supply will be ruined. We will starve during the dry season,” it thought. With determination, it approached the buffalo and said, “Dear buffalo! Listen to me. I am a poor and weak ant. I have little ones. You know we cannot tolerate excessive heat. So, during the suitable seasons, we store food for difficult times.”

“What should I do then?” replied the buffalo with hesitation.

“Dear sister! You keep hitting the water with your tail repeatedly. This is causing the water to enter our homes and destroy our food supply. For God’s sake, fear for me and my children, and refrain from splashing water with your tail. I will forever be grateful to you,” the ant implored. But the buffalo was stubborn and said with a loud voice, “Listen, insignificant ant! I am the owner of my actions. I will wag my tail as I please. Either obey my command or be crushed.”

A Lesson in Compassion 🔄
The ant, hearing this, welled up with tears. It understood that reasoning with this cruel buffalo would be in vain. So, it hesitated for a moment and then returned, defeated. The colony was filled with water. The entire food reserve was gone, and the ant’s offspring cried out of fear. It was in great distress, not knowing what to do.

In its desolation, the ant wandered towards a mound nearby. Many ants were its friends, and they all learned about the situation. When they found out about the plight, they said, “Dear brother! You have been our benefactor. You have helped us in every bad situation. Now, fate has given us the opportunity to repay these favors. Let us work together to build a shelter for you.” Encouraged by their words, many ants joined hands in constructing a new abode for the ant. The same task that the ant used to accomplish alone in several days was now completed in just an hour. All the ants brought small quantities of grain from their homes to resolve the food issue. Soon, a large pile of grains was gathered.

In this way, the ant now had a comfortable home and an abundance of food. It expressed its gratitude. One day, as the ant was heading towards the pond to fetch water, it noticed the same buffalo standing apart, repeatedly shaking its tail, as if in great pain. The ant was overcome with a profound sense of empathy. It approached and spoke gently, “Dear sister buffalo, I ask for your forgiveness. I wronged you. Now, you are suffering because of me. How can I help you?”

The buffalo, teary-eyed, explained, “In the morning, I was scratching myself when a small thorn flew and lodged in my eye. Since then, I’ve been in pain. I can’t find any relief, and the thorn doesn’t seem to come out.”

“I can help you,” the ant assured. The buffalo gently rested her head on the ant’s land. The ant carefully approached and, after a moment, managed to extract the thorn. As soon as the thorn was removed, the buffalo felt immense relief and expressed her gratitude. She apologized for her previous behavior.

Embracing Kindness 🤝
“Dear sister, I may have wronged you, but even if I had retaliated, what difference would it have made between us? If everyone starts repaying evil with evil, the world will lose all goodness. And if you experience the joy that comes from doing good to others, you will find the answer to your question within yourself,” the ant wisely replied.

Now Read Story in Urdu
mبرائی کا جواب۔۔۔ ایک چونٹے کی کہانی
ایک چونٹا بڑا محنتی اور شریف تھا۔ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتا۔ کبھی اپنے بل کی مرمت کررہا ہے تو کبھی مند میں اناج کادانہ اٹھائے چلاآرہا ہے۔ کاہلی کو گناہ سمجھتا اور ہرکام بڑی محبت سے کرتا تھا۔ وہ وقت کی بھی بڑی قدرکرتا تھا۔ کسی کام سے باہر نکلتا تو کسی سے بے مقصد بات نہ کرتا وہ جانتا تھا کہ عقل مند زیادہ نہیں بولتے۔ راستے میں اگر کوئی جان پہچان والا چونٹا مل گیا تو دور ہی سے سلام دعا کرلی اور اپنی راہ پکڑی۔

اس کے ساتھ ساتھ وہ دردمنددل کا مالک بھی تھا۔ اگر راہ میں کوئی مصیبت زدہ مل جاتا تو اپنا کام چھوڑ کر اس کی مدد کرتا تھا۔ وہ اپنے بڑوں کی عزت کرتا اور چھوٹوں سے بھی شفقت سے پیش آتا تھا۔ اس چیونٹے کے بل کے قریب ہی گندے پانی کاایک جوہڑتھا۔ شریر اور گندے بچے گھنٹوں اس میلے کیچلے پانی میں نہاتے رہتے تھے۔ گندے پانی میں بہت سے جراثیم ہوتے ہیں جو ان کی کھال میں چپک کر پھوڑے پھنسی پیداکردیتے ہیں۔ ان بچوں کے علاوہ بہت سی بھینسیں بھی سارا دن پانی میں بیٹھی رہتی تھی۔

چیونٹا بڑا پریشان تھا۔ بھینسیں سارا دن پھرتی رہتی تھی۔ چیونٹے کو خطرہ تھا کہ کہیں وہ یا اس کا کوئی بچہ بھینسوں کے پاؤں تلے نہ کچل جائے۔ اب وہ زیادہ تر گھر میں ہی رہتا تھا۔ اگر کبھی کسی ضروری کام سے باہر جاتا بھی تھا تو اپنے بیوی بچوں کو سختی سے کہہ جاتا تھا کہ وہ باہر نہ نکلیں۔

ایک دن چیونٹا بہت تھکاہوا تھا، اس لیے دوپہرکاکھانا کھا کر کچھ دیر لیٹ گیا۔ بیچارے کوسوئے سوئے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ اچانک کسی نے اسے جھنجوڑدیا۔ وہ چونک کر اٹھا تو دیکھا کہ اس کی بیوی چیونٹی کھڑی ہے۔ وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی۔ چیونٹے نے جب اس کی طرف دیکھا تو بولی: آپ مزے سے سو رہے ہیں اور گھر میں پانی بھرا جارہاہے۔ ہیں ․․․․․․․ کیا کہاپانی․․․․․ پانی کہاں سے آرہا ہے؟ چیونٹا بولا۔

میں کیا جانوں کہاں سے آرہاہے۔ آپ باہر جاکر دیکھیں اوراس پانی کو کسی طرح بند کریں، ورنہ ہمارا محنت سے جمع کیا ہوا غلہ ضائع ہوجائے گا۔ چیونٹی نے کہا۔ چیونٹا فوراََ باہر کی طرف بھاگا۔ باہر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ اس کے بِل کے بالکل قریب جوہڑ میں ایک بھینس بیٹھی بار بار اپنی دم کو پانی مار رہی ہے۔ جس سے پانی کے چھینٹے اڑ اڑ کر چیونٹے کے بل میں داخل ہورہے ہیں۔ چیونٹے نے یہ منظردیکھا تو پریشان ہوگیا۔

اس طرح تو ہمارا خوراک کا ذخیرہ خراب ہوجائے گا۔ جاڑوں کے موسم میں بھوکے مرجائیں گے۔ چیونٹے نے یہ سوچا، پھر دوڑ کر بھینس کے قریب ایک پتھ پر چڑھ کر بولا: بی بھینس ! میری ایک بات سنو! کیا ہے؟ وہ اکڑکر بولی۔ دیکھو بہن!میں ایک غریب اور کمزور ساچیونٹا ہوں۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ تم جانتی ہوہم زیادہ گرمی برداشت نہیں کرسکتے، اس لیے مناسب موسموں میں برے وقت کے لیے اپنی خوراک ذخیرہ کرلیتے ہیں۔
تو پھر میں کیا کروں؟ بھینس روکھے پن سے بولی۔

اچھی بہن ! تم بار بار اپنی دم پانی میں مارہی ہو۔ اس سے میرے گھر میں پانی داخل ہورہاہے اور ہماری خوراک کاذخیرہ تباہ ہورہا ہے۔ خدا کے لیے مجھ پر اور میرے بچوں پر ترس کھاؤ اور اپنی دم پانی پر نہ مارو۔ میں تمام زندگی تمھارا احسان مندرہوں گا۔ وہ بہت بداخلاق بھینس تھی۔ اس پران باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ بڑے زور سے ذکرائی اور آنکھیں نکال کر بولی: جاجا حقیرچیونٹے میں اپنی مرضی کی مالک ہوں، جب تک چاہوں دم ہلاتی رہوں۔ تو مجھ پر حکم چلانے والا کون ہوتا ہے؟ دفع ہوجاؤ، ورنہ کچل کررکھ دوں گی۔

چیونٹے نے یہ سنا تو اس کی آنکھوں میں آنسو بھرآئے۔ وہ سمجھ گیا۔ اس ظالم بھینس سے مزید کچھ کہنا بے کار ہوگا۔ چنانچہ وہ سرجھکا کرلوٹ آیا۔ گھر میں بہت زیادہ پانی بھر چکا تھا۔ خوراک کا سارا ذخیرہ تباہ ہوچکا تھا اور چیونٹے کے بچے خوف سے چیخیں ماررہے تھے۔ اس نے بڑی مشکل سے انھیں پانی سے نکالا اور باہر لے آیا۔ پھر ایک حسرت بھری نظر اپنے گھر پر ڈالی اور کسی انجانی منزل کی طرف چل دیا۔ اب اس کے پاس نہ کھانے کو خوراک تھی اور نہ سرچھپانے کا ٹھکانا۔ وہ سخت پریشان تھا کہ کیا کرے کیا نہ کرے۔

چلتے چلتے وہ ایک ٹیلے کے پیچھے جانکلا۔ اس جگہ چیونٹے کے بہت سے دوست رہتے تھے۔ انھیں جب سارا حال معلوم ہوا تو سب نے چیونٹے سے کہا: پیارے بھائی! آپ ہمارے محسن ہیں۔ آپ نے ہر برے وقت پر ہماری مدد کی ہے۔ اب قدرت نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم ان احسانوں کا بدلہ اتار سکیں۔ یہ کہہ کر بہت سے چیونٹے مل کر ایک مکان کی تعمیر میں لگ گئے۔ وہی کام جو چیونٹا اکیلا کئی دنوں میں مکمل کرتا، اب گھنٹے بھر میں ہوگیا تھا۔ ان سب نے چیونٹے کے لیے بڑاسا مکان بنادیا۔ مکان کے بعد غذا کامسئلہ حل کرنے کے لیے سب چیونٹے اپنے اپنے گھر سے تھوڑاتھوڑا اناج لے آئے وہ غلے کاایک بڑا ڈھیربن گیا۔

اس طرح چیونٹے کے پاس اب ایک آرام دہ گھر اور ڈھیر ساراغلہ تھا۔ اس نے سب کا شکریہ ادا کیا۔ ایک دن چیونٹا کسی کام سے جوہڑ کی طرف جارہا تھا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ وہی بھینس پانی سے الگ کھڑی رورہی تھی اور بار بار اپنے سرکو جھٹک رہی تھی، جیسے وہ سخت تکلیف میں ہو۔ چیونٹے نے اس تکلیف میں دیکھا تو بڑا ترس آیا۔ وہ آگے بڑھا اور بھینس سے خیریت دریافت کی۔ بھینس سخت شرمندہ تھی۔ وہ روتے ہوئے بولی: بھائی چیونٹے مجھے معاف کردو۔ میں نے تم پر ظلم کیا تھا۔ اب اس کی سز ا بھگت رہی ہوں۔ مگر تمہیں کیا تکلیف ہے؟ چیونٹا بے چینی سے بولا۔

بھینس نے بتایا: میں صبح بھوسا کھارہی تھی کہ ایک چھوٹا سا تنکا اڑ کر میری آنکھ میں چلاگیا۔ تب سے میری آنکھ میں تکلیف ہے۔ مجھے کسی پل چین نہیں آرہاہے۔ اور تنکا کسی طرح نکل بھی نہیں رہاہے۔ میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں۔ چیونٹا بولا: تم اپنا سرزمین پر رکھو۔ بھینس نے جھٹ اپنا سرزمین پر رکھ دیا۔ اب چیونٹا اس پر چڑھ گیااور آنکھ کے قریب جاکر تھوڑی دیر میں وہ تنکا باہر نکال پھینکا ۔ تنکا نکلنے سے بھینس کو بے حد سکون ملا اور وہ احسان کے بوجھ تلے دب گئی۔

اس نے شکریہ ادا کیااوربولی: میں نے تم پر ظلم کیا، لیکن پھر بھی تم نے مجھ پر احسان کیا۔ آخر کیوں۔ چیونٹا بولا: سنو بہن! تمھاری بدی کے جواب میں اگر میں بھی بدی کرتا تو میرے اور تمہارے درمیان کیا فرق رہ جاتا۔ اگر تمام لوگ بدی کا جواب بدی سے ہی دینے لگیں تو دنیا سے نیکی بالکل ہی مٹ جائے گی۔ پھر اگر تمہیں اس خوشی کااحساس ہوجائے جوکسی کے ساتھ بھلائی کرنے سے ملتی ہے تو تم کو تمھارے سوال کا جواب خود ہی مل جائے گا۔
یہ سن کر بھینس نے وعدہ کیا کہ اب میں کسی کو نہیں ستاؤں گی اور سب کے ساتھ نیکی سے پیش آؤں گی۔

Scroll to Top