The Power of a Simple Gesture: A Tale of Compassion and Connection

Once upon a time, there was an owner of a mill known for his temper and arrogance. He was often curt in his conversations, only speaking when it was absolutely necessary or to give imperative instructions. This demeanor left the workers apprehensive whenever they had to interact with him. One day, a new worker arrived at the mill, and upon hearing about the owner’s reputation, he couldn’t help but feel a sense of trepidation.

A New Perspective: As the newcomer settled into his role, he observed the interactions between his fellow workers and the owner. While others approached with caution, he noticed a different way to approach the situation. He believed that distance should not be maintained from the owner, but rather, an effort should be made to bridge it. Perhaps a bit of levity was in order, he thought.

A Birthday Invitation: As fate would have it, it was the new worker’s son’s birthday. Feeling a sense of camaraderie with his colleagues, he extended an invitation to the owner. Surprisingly, the owner did not attend the celebration. Disheartened, the worker decided to approach the owner directly the next day.

An Unexpected Gesture: With a warm smile and sincere manners, the worker approached the owner and said, “Sir, you didn’t come to my son’s birthday, but I have something for you. May I give it to you?” The owner, looking at the worker with a seriousness that belied his usual demeanor, responded, “I don’t need anything. If you want something, just tell me.”

The Gift of Understanding: Undeterred, the worker pulled out two white ribbons from his pocket and showed them to the owner. Perplexed, the owner asked, “What are these?” The worker replied, “These were given to me a long time ago, when I used to keep my distance from others. The giver said, ‘This is for someone who holds great importance in your life.’ This second ribbon is for you, for you hold the most importance in my life.”

A Pensive Moment: The owner, though momentarily taken aback, couldn’t help but chuckle at the worker’s earnestness. However, he maintained his composure and allowed the worker to tie the ribbon around his wrist, just as the worker had envisioned.

A Revelation: As the worker turned to leave, the owner, now deep in thought, couldn’t help but reflect on the significance of this simple gesture. He realized that he had never expressed love to anyone, nor had anyone expressed it to him. In that small act, he found a glimmer of hope and a reason to reconsider his approach to life.

A Father’s Reprieve: That evening, as the owner returned home, he couldn’t help but think of his son. In his busy schedule, he had seldom granted him the attention he deserved. Whenever they did talk, it was either advice or reprimand. Today, he felt an urge to do something different.

A Heartfelt Bond: Walking into his son’s room, the owner removed the ribbon from his wrist and tied it gently around his son’s arm. Tears welled up in the son’s eyes, touched by the unexpected display of affection. The gesture spoke volumes, mending a bond that had long yearned for such a moment.

Conclusion: In the end, it wasn’t grand gestures or extravagant gifts that bridged the gap between the owner and his workers, or between the owner and his son. It was a small ribbon, given with love and received with open hearts. This tale reminds us that sometimes, it’s the simplest acts of compassion that have the power to transform relationships and bring warmth to the coldest of hearts.

Now Read Story in Urdu


ایک دفعہ ایک مل کے مالک کو جو بہت غصے والا اور مغرور مشہور تھا۔ وہ کم گو تھا۔ جب بھی بات کرتا یا تو ڈانٹ پلانے کے لیے یا پھر ضروری معلومات مہیا کرنے کے لیے ۔ سب مزدور اس سے بات کرتے گھبراتے۔ ایک نیا مزدور مل میں آیا ۔ اس نے جب مالک کے بارے میں باتیں سنی تو اس سے نہ رہا گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا ہمیں مالک سے دوری نہیں بنا کر رکھنی چاہیے۔ ممکن ہے کہ اس کی طبعیت میں ہنسی مذاق شامل نہ ہو۔ اس مزدور کے بیٹے کی سالگرہ تھی ۔اس مزدور نے اپنے بیٹے کی سالگرہ پر مالک کو بھی بلایا ،وہ نہیں آیا دوسرے دن مزدور نے مالک کے پاس آ کر بہت خوش اخلاقی سے کہا سر آپ کل میرے بچے کی سالگرہ پر نہیں آئے ۔ میں آپ کے لیے کچھ لایا ہوں ۔ کیا میں آپ کو وہ دے سکتا ہوں ۔ مالک نے سنجیدگی سے اس مزدور کو دیکھا اور بولا ۔ مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔ اگر تمہیں کچھ چاہیے تو بولو۔ 

مزدور نے مالک کی طرف مسکرا کر دیکھا اور بولا آپ اگر ویسا کر دیں جو میں چاہتا ہوں تو یہ ہی میرے بیٹے کی سالگرہ کا تحفہ ہو گا۔ مالک کو حیرت ہوئی ۔ اس نے مزدور سے پوچھا ۔ تم مجھے کیا دینا چاہتے ہو اور مجھ سے کیا کروانا چاہتے ہو۔ مزدور نے دو سفید رنگ کے ربن نکال کر مالک کو دیکھا۔ مالک نے پوچھا یہ کیا ہیں ۔ مزدور نے کہا ۔یہ مجھے کبھی کسی نے دیے تھے ،جب میں دوسروں سے دور دور رہتا تھا۔ دینے والے نے کہا تھا۔ یہ ایک تمہارے لیے ہے۔ کیونکہ تم ایسے انسان ہو جو میری زندگی میں بہت اہمیت رکھتے ہو۔یہ دوسرا سفید ربن اس کے لیے ہے جو شخص تمہاری زندگی میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ میں بھی یہ ایک ربن آپ کے لیے لایا ہوں اور دوسرا اس کے لیے ہے جس سے آپ اپنی زندگی میں سب سے ذیادہ محبت کرتے ہیں یا اہمیت دیتے ہیں ۔ یہ ربن آج ہی آپ اسے دے دیں۔ مزدور کی بات سن کر مالک کو ہنسی آئی لیکن وہ سنجیدہ ہی رہا ۔ اس نے مزدور کو ربن ہاتھ پر باندھنے کی اجاذت دے دی۔ جو وہ چاہتا تھا۔ دوسرا ربن جب مزدور نے مالک کو دے دیا تو وہ سوچنے لگا ایسا کون سا انسان ہے جسے وہ سب سے ذیادہ اہمیت دیتا ہے۔ یہاں تک کہ کام کا وقت ختم ہو گیا وہ واپس گھر جا رہا تھا کہ راستے میں اسے اپنے بیٹے کا خیال آیا۔ جسے اپنی بیوی کے گزر جانے کے بعد مصروف ہونے کی وجہ سے بہت کم وقت دیتا تھا جب بھی اس سے بات کرتا تو وہ یا تو نصیحت ہوتی یا پھر ڈانٹ ۔

اس نے گھر داخل ہوتے ہی ربن جو اس کی کلائی پر تھا اُتار دیا اور اپنے بیٹے کے کمرے کی طرف چل دیا۔ جو بستر پر لیٹا تھا۔ باپ نے دروازے پر دستک دے کر اندر آنے کی اجاذت چاہی ۔ لڑکے نے دوروازہ کھولا۔اسے شدید حیرت ہوئی ۔اس کے والد صاحب نے اسے بلانے کی بجائے خود کمرے میں آنے کی زحمت کیوں کی۔ وہ سوچ ہی رہا تھا۔ کہ اس کے پاپا نے اس کی کلائی پکڑی اور اس کی طرف دیکھ کر مزدور کی کہی ساری بات دُہراد دی۔ ساتھ میں یہ بھی کہا۔ کہ بہت مصروف ہونے کی وجہ سے میں نے کبھی تمہیں ٹھیک سے وقت نہیں دیا۔ مجھے افسوس ہے ۔ اپنی جیب میں سے دوسرا ربن نکال کر اس نے اپنے بیٹے کو دیا اور بولا یہ ربن تم اس کی کلائی پر باندھ دینا ۔جس کو تم سب سے ذیادہ محبت کرتے ہو اور جس کی تمہاری زندگی میں سب سے ذیادہ اہمیت ہے۔ لڑکا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ۔ اس نے اپنے باپ کی کلائی پکڑی اور بولا پا پا میں یہ آپ کو ہی باندھوں کا میں سوچتا تھا کہ آپ مجھ سے بلکل پیار نہیں کرتے اور میں کچھ دنوں سے خود کشی کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ آپ کی چھوٹی سی بات نے مجھے جینے کے لیے وجہ دے دی۔ آئی لو یو پاپا۔مل کے مالک کی آنکھوں میں بھی آنسو آ گئے۔ اس نے اپنے بیٹے کو اپنے سینے سے لگا لیا۔

دوسرے دن جب وہ مل میں گیا تو اس نے اس مزدور کو بلایا جس نے اسے ربن دیا تھا۔ جیسے ہی مزدور کمرے میں داخل ہوا تو مالک کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ مزدور نے مالک کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی تو وہ بھی مسکرا دیا۔ مالک نے اس مزدور سے پوچھا کہ تمہیں مجھے ربن دینے کی کیا سوجھی ۔ مزدور نے مسکرا کر مالک کی طرف دیکھا اور بولا ۔میں نے ایک کتاب میں پڑھا تھا۔ جب میں نے آپ کے چہرے کی سختی دیکھی تو سمجھ گیا۔ سالوں سے آپ نے کسی سے محبت کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی کسی نے آپ سے محبت کا اظہار کیا ہے۔ سر محبت کا اظہار انتہائی ضروری ہے۔ کبھی کبھی چھوٹا سا عمل دوسروں کی زندگی بدل د

Scroll to Top