Culinary Extravagance of Emperor Akbar: A Glimpse into Mughal Gastronomy

The reign of the Mughal emperors was characterized by opulence and grandeur, a legacy that continues to captivate the imagination of people worldwide. Among them, Emperor Akbar stands out as a connoisseur of fine living, particularly in matters of culinary delight. This article will delve into the sumptuous world of Mughal gastronomy during Akbar’s era, shedding light on the exquisite dishes and culinary practices that adorned the royal kitchens.

The Epicurean Delights of Emperor Akbar

Akbar’s fascination with architecture is well-known, and the world marvels at the Taj Mahal, a testament to his architectural legacy. However, his affinity for gastronomy was equally remarkable. The Mughal kitchens under his rule were a symphony of flavors, orchestrated by a head chef, a treasurer, a storekeeper, a clerk, and over 400 cooks hailing from various parts of India, Persia, Egypt, Arabia, Europe, and beyond. Their expertise extended to preparing a diverse array of dishes, reflecting a fusion of culinary traditions.

Dining Rituals Fit for a King

Emperor Akbar’s dining rituals were nothing short of regal. The culinary ensemble would be escorted to the dining table by the royal kitchen’s elite, ensuring that the dishes were impeccably presented. The selection of the emperor’s meal was entrusted to the royal physician, who curated a menu incorporating medicinal properties. Even the grains of rice used in the biryani were wrapped in silver foil, enhancing digestion and fortifying the emperor’s health.

The Finer Details

The table was adorned with jewel-encrusted platters, and partridges with decorative wings were presented within the palace walls. These birds were hand-fed and massaged daily with musk oil and sandalwood, creating an exquisite dish that reflected the dedication of the Mughal culinary artisans. Akbar’s fondness for fresh, fragrant roses extended beyond mere decoration; rosewater was liberally used in both culinary and beverage preparations, bestowing an aromatic richness to the feast.

The Vegetarian Palette

While known for indulging in opulent feasts, Emperor Akbar had a penchant for vegetarian fare as well. The verdant gardens of the palace provided an abundance of fresh produce, which was transformed into delectable dishes. The vegetables were infused with rosewater, elevating their flavors and aromas. This vegetarian indulgence was a testament to Akbar’s appreciation for the natural bounty of his kingdom.

Legacy of Akbar’s Gastronomy

The legacy of Akbar’s gastronomy lives on through several renowned dishes that continue to be celebrated. Samosas, saag, palak, haleem, harissa, yakhni, methi dana salan, and salim roast dombay are some of the culinary treasures that have transcended time, retaining their popularity even in contemporary times.

Culinary Presentation Fit for a Monarch

Akbar’s meals were served on golden, silver, and gem-studded platters, each meticulously wrapped in fine cloth. The practice of using ice to chill beverages and dishes was achieved through an elaborate courier service from the Himalayas, ensuring that the emperor’s table was graced with refreshing coolness.

The Rituals of Dining

Before partaking in the meal, Emperor Akbar followed a ritual that underscored his meticulous attention to detail. The head chef, who had prepared the meal, and the kitchen supervisor, Mir Bakawal, would taste the dishes first. Mir Bakawal would then seal the food, indicating the number of dishes being sent for the emperor’s meal.

Security Measures for Culinary Safety

Emperor Akbar lived with a constant fear of poisoning, a concern rooted in the attempted poisoning of his grandfather, Babur. In response, Mirza Babur, a trusted confidante, implemented stringent security measures. During Akbar’s reign, security was bolstered to ensure the safety of the emperor’s meals.


Emperor Akbar’s gastronomic legacy offers a tantalizing glimpse into the culinary opulence of the Mughal era. The extravagant feasts, meticulous presentation, and diverse flavors are a testament to Akbar’s appreciation for the finer things in life. His love for fine dining continues to resonate through the ages, reminding us of a time when every meal was an exquisite experience, fit for a king.

Now Read Story in Urdu


مغلوں کا انداز حکومت شروع سے ہی نرالا تھا یہ بات سب ہی جانتے ہیں، شاہ جہاں کو آرکیٹکچر سے بہت پیار تھا آج ساری دنیا اس کا بنوایا ہوا تاج محل دیکھنے آتی ہے،

 ہمایوں نے اپنا وعدہ پورا کرنے کے لیے سلطنت ایک دن کے لیے نظام سقہ کے سپرد کر دی تھی جسکی تاریخ میں اور کوئی مثال نہیں ملتی اور

 جہانگیر نے کنیز انارکلی کی خاطر باپ سے جنگ چھیڑ دی وغیرہ مگر نرالے پن میں ان میں سے کوئی بھی جلال الدین محمد اکبر کو چھو کر نہیں گزرا۔

جلال الدین اکبر برصغیر کے لوگوں کا چاہے ہندو ہو ں چاہے مسلمان ہر دل العزیز بادشاہ تھا اس نے اپنے دور میں گائے کے گوشت پر پابندی لگا رکھی تھی تاکہ ہندو مت کے ماننے والوں کو تکلیف نہ ہو

 لیکن اسکے باوجود بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں بچوں کے نصاب کی کتابوں سے مغل بادشاہوں کی تمام تاریخ نکال دی گئی ہے تاکہ ہندوستان کی تاریخ کا یہ باب مکمل طور پر ختم ہو جائے مگر ہندوستان کی تاریخ جلال الدین اکبر اور باقی مغلوں کے ذکر کے بغیر ہمیشہ نامکمل ہی رہے گی۔

آج ساری دنیا میں مقبول مغلیہ کھانوں کی تاریخ کا آغاز بھی جلال الدین اکبر کے دور سے ہوا جسکا کچن بھی سب سے نرالا تھا کچن میں ایک ہیڈ شیف، ایک خزانچی، ایک سٹور کیپر، کلرک، کھانا چکھنے والے اور ہیڈ شیف کے ماتحت 400 سے زیادہ باورچی تھے جن کا تعلق انڈیا، فارس، مصر، عرب، یورپ اور دنیا کے اور کئی حصوں سے تھا اور ان کی ذمہ داری طرح طرح کے پکوان تیار کرنا تھا۔

کہتے ہیں اکبر کا کھانا خواجہ سرا کھانے کی ٹیبل تک لیکر آتے تھے جنکی قیادت کچن کے شاہی افسران کرتے تھے، بادشاہ کے کھانے کا انتخاب شاہی طبیب کی ذمہ داری تھی جو کھانے میں ایسے کھانوں کو شامل کرتا تھا جن میں ادویاتی خوبیاں شامل ہوں، بادشاہ کے لیے بنی بریانی کے چاول کے ہر دانے کو چاندی کے ورق سے لپیٹا جاتا تھا تاکہ کھانا ہاضمے کو بہتر بنائے اور بادشاہ سلامت کی طاقت میں اضافہ کرے۔

اکبر کے دسترخوان کی زینت بننے والے مرغے محل کے اندر پروان چڑھائے جاتے تھے اور ان مرغوں کو روزانہ ہاتھ سے کھانا کھلایا جاتا تھا اور کھانے میں انہیں زعفران ملا کھانا اور پینے کے لیے عرق گلاب دیا جاتا تھا اور ان مرغوں کی روزانہ مسک آئل اور صندل کی لکڑی کے تیل سے مالش کی جاتی تھی۔

شہنشاہ اکبر ہفتے میں تین دن سبزی کھاتا تھا اور بادشاہ کے لیے کچن کی ساری سبزی محل میں موجود باغات میں اگائی جاتی تھی اور ان سبزیوں کو پانی کے طور پر عرق گلاب دیا جاتا تھا تاکہ جب سبزی پکے تو سبزی سے خوشبو آئے۔شہنشاہ جلال الدین کے دور کے چند مشہور کھانوں میں سموسہ، ساگ، پالک، حلیم، ہریسا، یخنی، میتھی دانے کا سالن، سالم روسٹ دْمبے وغیرہ آج بھی بہت مشہور ہیں۔

اکبر کا کھانا سونے، چاندی اور پتھر کے برتنوں میں پیش کیا جاتا تھا ان برتنوں کو کپڑے سے ڈھانپا جاتا تھا۔ کھانوں اور مشروبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے برف کا استعمال ہوتا تھا اور یہ برف روزانہ کی بنیاد پر ہمالیہ کے پہاڑوں سے اکبر کی خاص کورئیر سروس کے ذریعے اکبر کے محل تک لائی جاتی تھی۔

بادشاہ کو کھانا جب باورچی خانے سے روانہ ہوتا تو اسے پہلے پکانے والا باورچی اور نگران کچن میر بکاول کھا کر چکھتا، پھر میر بکاول کھانے کو سیل کر کے اس پر اپنی مہر لگا دیتا اور کھاتا لکھنے والا کہ کتنے برتن کھانے کے لئے جارہے ہیں اسکا اندراج کھاتے میں کردیتا۔کھانا لیجاتے ہوئے کچن کا عملہ خواجہ سراؤں کے اردگرد چلتا اور کھانے کے لیے زمین پر قالین کے اوپر قیمتی دستر خوان بچھایا جاتا اور جب کھانا بادشاہ کے سامنے پیش کیا جاتا تواکبر کے کھانے سے پہلے میر بکاول کھانے کی سیل کھولتا اور اْسے ایک دفعہ پھر چکھتا۔

جلال الدین کو خوف تھا کہ اسے زہر دے کر مارا جا سکتا ہے اور اس خوف کی وجہ اس کے دادا ظہیرالدین بابر تھے جنہیں زہر دینے کی کوشش کی گئی تھی اور اس کوشش کے بعد مرزا بابر نے سکیورٹی کے لیے کئی اقدامات کیے تھے اور اکبر کے دور میں اس سکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا تھا۔

اس کے بعد آئین اکبری میں مسالوں اور کچھ غذاؤں کی اقسام کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا گیا ہے۔

( اس کو پڑھنے کے بعد مجھے لگتا ہم صرف کچرا ہی کھا رہے ہیں 🤐🙃)

Scroll to Top